Real Social News Blooger

Here All Social News

Real Social news Is the Place For All social News.

Best Social News Blog

Best Blog For News

Welcome To Real Social News

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

All Type Of Books

Real Social News You can read here also all type of books.

Our Aim To Provide Right News

Real Ssocial News Best Blog For News.

Tuesday, 30 September 2014

Top Expensive Cars In the World


Top 10 Expenses Cars in the world view ans and see the price......

Click Here To See Complete Post

Monday, 29 September 2014

PTI Jalsa 28 December Lahore View Drone See Must Video

Click on Image To See Video

Click Here To See Video

Monday, 15 September 2014

Check Yours mobile Genuine or Fake?

Monday, 8 September 2014

Imran Khan And Maulana fight 2014

PTI Chairman Imran Khan has said that the upcoming election politics Rehman Malik would cease to exist because they do politics in the name of Islam, and  <<<continue read click on Read More

Monday, 2 June 2014

جماعت اسلامی کے رہنما نصراللہ شجیع بچے کو بچاتے ہوئے دریا میں ڈوب گئے

نصر اللہ شجیع عثمان پبلک اسکول کے بچوں کے ساتھ پشاور گئے تھے جہاں ایک بچہ پاؤں پھسلنے کے باعث دریا میں جاگرا، معراج الہٰدی صدیقی فوٹو؛فائل
پشاور:  بالاکوٹ میں جماعت اسلامی کے رہنما نصراللہ شجیع بچے کو بچاتے ہوئے دریا میں ڈوب گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر نصراللہ شجیع  بالا کوٹ میں دریا میں ڈوبنے والے بچے کو بچاتے بچاتے پانی کے تیز بہاؤ کے باعث خود بھی دریا میں ڈوب گئے جن کی تلاش کے لئے ریسکیو  آپریشن جاری ہے جب کہ بچے کی لاش نکال لی گئی۔
جماعت اسلامی سندھ کے امیر معراج الہٰدی صدیقی کا کہنا ہے کہ نصر اللہ شجیع عثمان پبلک اسکول کے بچوں کے ساتھ پشاور گئے تھے جہاں ایک بچہ پاؤں پھسلنے کے باعث دریا میں جاگرا جسے بچانے کےلئے نصراللہ شجیع نے بھی چھلانگ لگادی تاہم پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے دونوں دریا میں لاپتہ ہوگئے۔

Saturday, 3 May 2014

Pakistan Top 1 In Holidays

اس وقت شاید ہم دنیا میں سب سے زیادہ چھٹیاں کرنے اور کام چوری کے سب سے زیادہ عذر تلاش کرنے والی قوم ہیں۔
اس وقت بھارت میں سالانہ صرف چھ قومی تعطیلات ہوتی ہیں۔ چین دس، روس آٹھ، سنگاپور چھ، نیوزی لینڈ سات، امریکہ بارہ اور برطانیہ میں آٹھ سرکاری چھٹیاں ہوتی ہیں۔ اسلامی ممالک کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ جبکہ صرف پاکستان میں سالانہ سرکاری چھٹیوں کی تعداد 18 ہے۔ اس کے علاوہ ہنگامی چھٹیاں، میڈیکل، اَرنڈ اور ڈیپارٹمنٹل لیوز (چھٹیوں) کی تعداد بھی ہوشربا حد تک زیادہ ہے اور سب سے زیادہ تشویش والی بات یہ ہے کہ سرکاری اداروں اور بنیکوں میں اکثر لوگ بغیر بتائے مرضی سے چھٹی کر جاتے ہیں۔
اس دن لیٹ یا اگلے دن درخواست دے دیں گے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی وجہ سے آنے والے سائل کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور دفتری کام رک جائیں گے۔ لیکن سب سے زیادہ افسوس اور دکھ والی بات یہ ہے کہ دوسروں کا احساس اور ہمدردی، جوکہ ہمارے مذہب کا طرہ امتیاز ہے، ناپید ہوچکا ہے۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ کشمیر ڈے یا کوئی اور قومی دن جس کے لیے یہ چھٹی مقصود ہوتی ہے اس کی افادیت کے مطابق منانے اور اظہار یکجہتی کرنے کے بجائے گھر میں سوکر اور گپ شپ میں گزار دیا جاتا ہے۔ ہمارا یہ فعل مردہ جسم اور قومی کردار کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔
میں نے تقریباً 32 سالہ فوجی سروس میں ایسا فوجی آفیسر یا جوان نہیں دیکھا جس نے بغیر اشد مجبوری کے اور وہ بھی گھر بیٹھے بروقت اطلاع نہ کی ہو اور اجازت نہ مانگی ہو۔ چھٹی پر گئے ہوئے افسر یا جوان نے اگر کسی بہانے چھٹی بڑھانے (Extend) کیلئے درخواست بھیج دی یا ٹیلیفون کردیا تو اس کو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے، فوج میں اکثر کمانڈر حسب ضرورت فوج کے جوانوں کے ساتھ قریبی رشتہ (Contact) رکھنے، ان کے مورال کا خیال رکھنے، ان کی خوراک اور فیملی پرابلم جاننے کیلئے مہینہ میں ایک عام میٹنگ کے ذریعے ملاقات کرتے ہیں۔
میں کیپٹن تھا اور رجمنٹ میں بحیثیت ایجوٹننٹ (Adjutant) ہیڈکوارٹر، ٹروپس کا کمانڈنگ افسر بھی تھا۔ جوانوں کو ہمیشہ پابندی وقت کے ساتھ چھٹی ختم ہونے کے بعد بغیر کسی بہانے اور حیل و حجت کے واپس آنے کی تلقین ہوتی تھی اور کوئی ٹیلیفون یا مزید چھٹی کیلئے درخواست نہ کرنے کیلئے کہا جاتا تھا اور ان تمام باتوں کا تقریباً 99 فیصد اثر بھی ہوتا تھا۔ ایک دن میں صبح تقریباً آٹھ بجے اپنے دفتر میں بیٹھا کام کررہا تھا کہ میرے صوبیدار صاحب نے آکر بتایا کہ سر سپاہی اللہ دتہ چھٹی پر گیا ہوا تھا اس نے چھٹی ختم ہونے پر آج صبح دفتری اوقات سے پہلے رپورٹ کردی ہے، لیکن اس نے آکر بتایا ہے کہ رات کو اسی کی بیوی فوت ہوگئی ہے۔ کیونکہ ٹروپ کمانڈر صاحب کا حکم تھا کہ ٹیلیفون نہیں کرنا اس لیے وقت پر واپس آگیا ہوں۔
میں نے اس جوان کو بلایا اور اس کے ساتھ افسوس کرنے کے بعد شاباش دی۔ جیب سے نکال کر کرایہ بھی دیا اور مزید دس دن چھٹی دے کر روانہ کردیا۔ یہ مثال دینے کا مقصد صرف اور صرف ایسے لوگوں کو احساس دلانا ہے جو اکثر گھر بیٹھے موڈ نہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اور عارضی یا من گھڑت بہانے سے چھٹیاں کرتے ہیں۔ میں یہاں یہ بھی باور کرانا چاہتا ہوں کہ وقت پر کام نہ کرنا اور جس ڈیوٹی کی سرکار سے تنخواہ لے رہے ہیں اگر آپ اس کا صحیح حق ادا نہیں کررہے تو یہ بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کو اس کا جواب دینا ہے۔

Tuesday, 29 April 2014

BJP And Geo Friendship


حامد میر کی حفاظت کے لئے بھرپور اقدمات کئے جائیں اور جیو گروپ کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا جائے، یشونت سنہا فوٹو: فائل
نئی دلی: حامد میر پر حملے کے بعد جیو کی جانب سے آئی ایس آئی پر الزام تراشی کے بعد جہاں بھارتی میڈیا کو اس اہم ترین قومی ادارے کو بدنام کرنے کا موقع مل گیا وہیں بھارتی سیاست دان کے بھی پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہوگئے ہیں جس کی تازہ مثال ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما یشونت سنہا کی ہے جنہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ان پر حملے میں آئی ایس آئی کے عناصر ہی ملوث ہوں۔
پاکستان میں امن کی آشا کے نام سے زہر کی بھاشا بولنے والے بھارت نواز میڈیا گروپ ’’جیو‘‘کی جانب سے صحافی حامد میر پر حملے کا الزام آئی ایس آئی پر لگانے کے بعد جہاں بھارتی میڈیا کی بے پناہ حمایت سامنے آئی ہے وہیں بھارتی سیاستدانوں کے سینوں میں بھی  درد ہونے لگا ہے اور وہ اس کا باضابطہ اظہار بھی کررہے ہیں، جس کی تازہ مثال ہندو انتہا پسند تنظیم بی جے پی کے ایک رہنما یشونت سنہا کا وزیر اعظم نواز شریف کے نام خط ہے۔ جنہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے جیو کی حمایت میں اپنے پریم پتر میں کہا ہے کہ حامد میر ایک بے باک اور نڈر صحافی ہیں، انہیں پاکستان کے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے خطرات ہیں ، اس لئے ہوسکتا ہے کہ ان پر حملے میں آئی ایس آئی ہی کے عناصر ملوث ہوں، اگر میاں نواز شریف کے دور وزارت میں انہیں کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا تو یہ ایک بہت بڑی بدقسمتی ہوگا۔ اس لئے وہ اپیل کرتے ہیں حامد میر کی حفاظت کے لئے بھرپور اقدمات کئے جائیں اور جیو گروپ کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا جائے۔
واضح رہے کہ جیو نیوز کے اینکر پرسن حامد میر پر 19 اپریل کو کراچی میں ایئرپورٹ کے قریب فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے تاہم اس کے بعد جیو نیوز نے اس کا الزام نہ صرف آئی ایس آئی پر لگایا بلکہ اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کو بھی قصوروار ٹھہرا کر پورا دن اس اہم قومی ادارے اور اس کے سربراہ کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتا رہا اور حامد میر کی جانب سے ایف آئی آر درج کرانے سے قبل جیو نے اپنے ہی اسکرین پر ایف آئی آر در ج کرکے اپنے نیوز سینٹر کو تفتیشی سینٹر بنادیا اور اس کے نیوز اینکرز نے گویا چیف جسٹس بن کر آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کو مجرم قرار دے دیا۔
دوسری جانب جیو نیوز کی طرف سے پاکستانی فوج اور ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی پر بلا سوچے سمجھے الزام تراشی سے گویا بھارتی میڈیا کی دلی مراد بر آئی اور اس نے چیخ چیخ کر زخمی صحافی سے اظہار یکجہتی سے زیادہ آئی ایس آئی کو ملوث کرنے کے پہلو کو نمایاں کیا۔ بھارتی چینلوں میں نام نہاد بریکنگ نیوز کا مرکزی نکتہ ہی پاکستانی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کرنا تھا اور یہ سلسلہ پرنٹ میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں بھی نظر آیا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے بھارتی میڈیا ایسے ہی کسی موقع کی تلاش میں تھا تاکہ وہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کو بدنام کرسکے اوراب پاکستان دشمن بھارتی سیاستدان بھی جیو کی حمایت میں سامنے آگئے ہیں

Site Search